Categories
News

جیون کھیہ بنگلہ دیش میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے تیرتا ہوا اسپتال

بنگلہ دیش میں تیرتا ہوا اسپتال سیلاب سے تباہ حال لوگوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ یہ اسپتال ایک فلاحی ادارے نے قائم کیا ہے۔ علاج کی غرض سے یہاں آنے والے افراد تو دلچسپی سے اسے دیکھتے ہی ہیں, عام لوگوں کے لیے بھی اسے دیکھنا ایک دلچسپ مشغلہ بن گیا ہے۔

بنگلہ دیش آب و ہوا کی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ہر سال سیلاب سے ملک کے بڑے حصے میں تباہی ہوتی ہے۔

رواں سال جولائی کے آخر میں بھی سیلاب آیا اور جاتے جاتے تباہی کی داستان چھوڑ گیا۔ اس سیلاب سے ساحلی علاقوں میں لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے میں خیراتی اداروں کے رضاکار ان کی مدد میں مصروف ہیں۔

جیسے ہی سیلابی پانی کم ہوا ‘بدیانو ندو فاؤنڈیشن’ نامی فلاحی و امدادی ادارے نے مدد کے متلاشی افراد کے لیے ایک کشتی کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ اس کشتی کے ذریعے لوگوں کو بنیادی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

کوسٹ گارڈز بھی کشتی کے لیے ایک روٹ پلان لے کر آگے آئے۔ بالآخر یہ کشتی ایک تیرتے ہوئے اسپتال میں تبدیل ہو گئی جسے ‘جیون کھیہ’ یا لائف بوٹ کہا جاتا ہے۔

فاونڈیشن کے ایک عہدیدار منظور مرشد نے بتایا کہ ہم امداد کے منتظر افراد کے پاس جانا چاہتے تھے مگر سیلاب کی تباہ کاری نے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں

ان کے بقول سیلاب سے متاثر لوگوں کے پاس نہ تو پیسہ تھا اور نہ ہی ان میں اسپتال جانے کی سکت تھی۔ شاہراہیں بھی سیلاب میں بہہ چکی تھیں ایسے میں خواتین بچے اور بزرگ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔

منظور مرشد نے دنیا کے سب سے بڑے مینگروز کے جنگلات کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ‘سندر بن’ سے ایک کشی کرائے پر لی ہے تاکہ طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ اس عارضی اسپتال کو ‘جیون کھیہ’ کا نام دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم ستمبر کو آٹھ ڈاکٹرز اور متعدد نرسوں کے ساتھ اس کا سفر شروع ہوا۔ دیگر ماہرین کے ساتھ ساتھ ان میں دو دانتوں کے ڈاکٹرز اور ایک ماہرِ امراض چشم و ایک درجن تربیت یافتہ رضا کار شامل تھے۔

منظور مرشد نے بتایا کہ پہلے دن 300 سے زیادہ لوگوں کا بغیر معاوضے کے علاج کیا گیا اور ادویات فراہم کی گئیں۔ اور جو لوگ زیادہ بیمار تھے انہیں قریبی جنرل اسپتال بھیجا گیا۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے گفتگو میں منظور مرشد نے بتایا کہ علاج کرانے والوں میں زیادہ تر سیکس ورکرز اور ان کے بچے شامل تھے۔ پہلا دن ہماری ٹیم کے لیے بہت اچھا تجربہ ثابت ہوا تھا۔ ان بے سہارا لوگوں کے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر ہماری ٹیم پرجوش ہو گئی تھی۔

اس کے بعد کشتی میں قائم اسپتال کا رخ جنوب کی طرف ہو گیا جب کہ یہ پہلے سے طے ہو گیا تھا کہ راستے میں کن مقامات پر لوگوں کے علاج کے لیے کشی روکی جائے گی۔

رضاکاروں نے بتایا کہ اس دوران ہزاروں افراد کا علاج کیا گیا جب کہ کشتی میں قائم اسپتال کو دیکھنے کے لیے آنے والوں میں ماسک بھی تقسیم کیے گئے۔

ساحل کے ساتھ رہنے والے لاکھوں افراد ہر سال سیلاب اور طوفان کے باعث اپنی زمین اور گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ متعدد علاقے قدرتی آفات سے اسپتالوں اور سڑکوں تک سے محروم ہو جاتے ہیں

رواں برس بنگلہ دیش کا تقریباََ 37 فی صد حصہ تین ماہ تک زیرِ آب رہا جس کے سبب 50 لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ جب کہ سیلاب سے 100 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے۔

فاؤنڈیشن کے چیئرمین کشور کمار داس نے کہا کہ آب و ہوا تبدیلی ایک حقیقت ہے۔ ہمارے لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں مگر ہم ایک مثال بنانا چاہتے تھے کہ ہمیں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ‘جیون کھیہ’ اسی مقصد کے لیے ہے۔

کشور کمار داس جہاز میں ذاتی اسپتال قائم کرنے خواہشمند ہیں

Categories
News

موٹروے ریپ کیس شوبز شخصیات کی جانب سے خواجہ سراؤں کے احتجاجی مظاہرے کو نظرانداز کرنے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان کے صوبے پنجاب میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد سے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

گذشتہ ہفتے کے اختتام اور رواں ہفتے کے شروع میں ہونے والے ان مظاہروں میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے علاوہ سی سی پی او لاہور کی بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حوالے سے نظامِ عدل اور پولیس کے تفتیشی نظام میں بہتری کے مطالبات کیے گئے۔

اس نوعیت کا ایک اور احتجاج 14 ستمبر کو کراچی میں پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا لیکن اس بار سوشل میڈیا پر تنقید کی توپوں کا رخ معاشرتی برائیوں کے بجائے اس مظاہرے میں شرکت کرنے والوں پر تھا۔

وجہ کچھ یوں بنی کہ کراچی میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ پیر کی شام کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہو کر ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم جیسے ہراسانی، جنسی تعصب اور تشدد اور قتل کے خلاف احتجاج کریں گے

لیکن اُسی روز کراچی میں شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی موٹروے پر ہونے والے واقعہ کی مذمت کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا تھا۔

ٹرانس کمیونٹی کے مظاہرے میں شرکت کرنے والے محمد معیز، جو کہ سوشل میڈیا پر شمائلہ بھٹی کے کردار سے بھی جانے جاتے ہیں، نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مظاہرے کے دوران پیش آنے والے والے واقعات پر متعدد ٹویٹس کیں۔

معیز نے اپنی تھریڈ میں لکھا کہ فنکاروں کے گروپ نے وہاں پہنچ کر پہلے سے موجود پانی اور سوڈا والوں کے سٹال ہٹوائے اور اس کے بعد اپنے مظاہرے کا آغاز کیا، جس میں ان کے ساتھ وہاں ان کی پریس ٹیم اور فوٹوگرافرز موجود تھے

معیز طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ’ظاہر ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شوبز شخصیات کے ہونے کے بعد کون 200 غریب ٹرانس جینڈر افراد اور خواجہ سراؤں کو گھاس ڈالے گا، کیونکہ سیلیبریٹیز کی آوازیں زیادہ اونچی ہیں۔‘

معیز نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’سیلیبریٹز نے ٹرانس جینڈر مظاہرے میں شمولیت سے انکار کر دیا، حالانکہ وہ تھا ہی ریپ اور جنسی تشدد کے خلاف۔’

معیز لکھتے ہیں کہ یہ ہمارے اتحادی نہیں ہیں اور ان کی موقع پرستی کو حمایت نہ سمجھا جائے اور ’ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔‘

’پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ طبقاتی فرق ہے۔ ہماری تمام جدوجہد اور مزاحمت اس فرق اور اشرافیہ کے کنٹرول کو ختم کرنے کے بارے ہونی چاہیے

معیز کی اس تھریڈ پر سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے تبصرہ کیا اور فنکاروں کی جانب سے کیے گئے مظاہرے پر سوالات اٹھائے۔

صارف مریم نے اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرے میں بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی۔ یہ منافقت لگتی ہے جب آپ صرف تصویریں بنواتے ہیں اور اصل مسائل کے بارے میں اس طبقے سے بات نہیں کرتے جن کے مسائل کو لے کر وہ ٹی وی سکرین پر باتیں کرتے ہیں اور پیسہ بناتے ہیں

Categories
News

یکم اگست سے متحدہ عرب امارات جانے والوں کے لیے ایک اورحکم آگیا

متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک اور نیا اِعلان کر دیا ہے اس اعلان  کے مطابق متحدہ عرب امارات جانے والے تمام طرح کے مسافروں کے لیے  متحدہ عرب امارات پہنچنے پہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہو گا  یہ قانون متحدہ عرب امارات کے اِئیرپورٹ پہ پہنچنے والے تمام طرح کے مسافروں پہ لاگو ہوگا جس میں متحدہ عرب امارات کے شہری، متحدہ عرب امارات کے ریزیڈنسی ویزوں کے حامل غیرملکی افراد ، سیاح، وزٹرز   اور ٹرانزٹ والے مسافر، غرض ہر طرح کے مسافر شامل ہیں۔

گلف نیوز  اور خلیج ٹائمز کی شائع کردہ خبر  میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے   محکمہ بحران کنٹرول اور وزارتِ خارجہ نے باہمی اتفاق سے یہ نیا قانون بنایا ہے جو کہ یکم اگست سے متحدہ عرب امارات کے تمام اِئیرپورٹس پہ نافذ ہو جائے گا۔ جو بھی مسافر کسی بھی  ملک سے، کسی بھی ویزے کے  ساتھ ، متحدہ عرب امارات کے کسی بھی اِئیرپورٹ پہ پہنچیں گے ان کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا ایسے بچے جن کی عمر بارہ سال سے کم ہے یا  ایسے بچے جو کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں تو ان کے لیے کورونا کا ٹیسٹ لازمی نہیں ہے

اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنے سابقہ اعلانات میں اکثر ممالک کے شہریوں کو انتخاب کا حق دیا تھا کہ وہ چاہیں تو متحدہ عرب امارات جانے سے پہلے اپنے ملک میں ہی ٹیسٹ کروالیں  یا پھر متحدہ عرب امارات پہنچ کے ٹیسٹ کروالیں ۔ تاہم اب یہ پالیسی منسوخ کر دی گئی ہےاب  تمام ممالک کے مسافروں کے لیے متحدہ عرب امارات میں کورونا کاٹیسٹ لازم کردیا گیا ہے چاہے وہ کسی بھی اِئیرلائن کے ذریعے سفر کریں۔

یاد رہے کہ پاکستانیوں کے لیے متحدہ عرب امارات جانے  کے لیے سفر سے پہلے اپنے ملک میں ہی کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ اب  پاکستان میں سفر سے پہلےبھی  اور پھر متحدہ عرب امارات پہنچنے کے بعد بھی  کورونا کا ٹیسٹ کروانا ہو گا یعنی ٹوٹل دو دفعہ ٹیسٹ ہو گا۔ خدا نخواستہ متحدہ عرب امارات میں اگر کسی کا ٹیسٹ ایک دفعہ مثبت آجا تا ہے تو  قرنطینہ میں رہنے کے بعد تیسری دفعہ بھی ٹیسٹ ہو سکتا ہے

اس کے علاوہ اس میں پالیسی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے مسافر جو متحدہ عرب امارات سے برطانیہ ، یورپ یاکسی اور ایسے ملک جانا چاہتے ہیں کہ جس نے پیشگی ٹیسٹ لازم کر رکھا ہے تو ایسے مسافروں کے لیے لازمی ہے کہ سفر کے آغاز سے پہلے اپنا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروالیں۔ نئی پالیسی کے اس پیراگراف میں تھوڑی سی وضاحت درکار ہے کیونکہ جب آپ متحدہ عرب امارات کے کسی اِئیرپورٹ پہ کسی اگلے ملک کی کنیکٹنگ فلائٹ لینے کے لیے پہنچتے ہیں تو اکثر وقفہ یا انتظار کا ٹائم بہت کم ہوتا ہے جس کے دوران ٹیسٹ کروانا ممکن نہیں ہوتا ، لہٰذا اس سے ہم یہ نتجہ اخذ کر سکتے ہیں ایسے مسافروں کے لیے اپنے ملک میں ہی سفر کے آغاز سے پہلے ٹیسٹ کروالینا کافی رہے گا تاہم اس حوالے سے اگر مزید کوئی معلومات دستیاب ہوئی توآپکے ساتھ شئیر کردیں گے مسافروں سے بھی گذارش ہے کہ تازہ ترین معلومات پہ نظر رکھیں اور جس اِئیرلائن سے سفر کرنا ہو ان سے بھی رابطہ کر کے معلومات ضرور حاصل کرلیں تاکہ سفر میں کسی طرح کے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے

Categories
News

چین نے لداخ پر قبضے کے بعد ’’ڈیم‘‘ کی تعمیر شروع کر دی، بھارت ایڑیاں رگڑ کر رونے لگا

رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کے مابین لداخ میں کشیدگی جاری ہے، چین نے وادی گلوان مین بھارتی فوجیوں کو نہ صرف ہلاک کیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا تھا جنہیں آج رہا کر دیا گیا . چین نے بھارتی علاقے پر قبضہ کیا اور کئی کلومیٹر تک بھارت کے اندر گھس گیا، چین نے متعدد بار بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مگر بھارت خاموش رہا، جب بھارتی فوجیوں نے چین سے رات کے اندھیرے مین اپنا علاقہ چھڑانے کی کوشش کی تو چین نے پہلی بار وارننگ دی ، دوسری بار حملہ کر دیا جس سے بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 اہلکار ہلاک ہوئے اور درجنوں لاپتہ ہوئے

دونوں ممالک کے فوجوں کے درمیان لڑائی کے بعد مودی سرکار پر اپوزیشن اور عوام کی جانب سے شدید دباو ہے کہ فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لو تا ہم مودی نے آج کل جماعتی کانفرنس طلب کر رکھی ہے، دونوں ممالک میں عسکری سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جس میں چین نے کہا کہ بھارت سرحدی کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے فوجیوں کے خلاف کاروائی کرے، دونوں ممالک میں ابھی تک کشیدگی کم نہیں ہوئی اور لداخ میں چین کی ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں فوج، بھاری جنگی سامان موجود ہے

رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے لداخ میں گلوان ندی پر ڈیم بنانا شروع کر دیا ہے، بھارت نے 16 جون کو سیٹلائٹ سے تصویریں حاصل کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چین نے گلوان ندی میں پانی روکا ہے اور کچھ تعمیراتی کام جاری ہے. بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز چینی وزارت خارجہ سے پریس کانفرنس کے دوران اس پر ایک سوال بھی کیا گیا جس پر چینی وزات خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں ہے. چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لداخ میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار بھارت ہے، بھارتی فوج نے سرحدی خلاف ورزی کی جس پرچین نے جوابی کاروائی اور انہیں روکا،اسکی ذمہ داری چین پر نہین بھارت پر عائد ہوتی ہے. چین نے گرفتار بھارتی فوجیوں کو رہا کر دیا ہے، بھارت کی عسکری قیادت کی جانب سے مذاکرات میں چینی فوج کی منتیں کرنے کے بعد اب چین نے بھارتی فوجیوں‌ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، بھارت اگرچہ اس بات کی تردید کر رہا تھا کہ اسکا کوئی فوجی لاپتہ نہیں ہے لیکن اب چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو رہا کئے جانے کے بعد بھارت کا ایک اور جھوٹ بھی بے نقاب ہو گیا ہے.

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کی رہائی سے کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے ، تا ہم بھارت میں آج مودی کی زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس آج شام ہو گی جس میں چینی حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا جائے گا، مودی کی صدارت میں آج مختلف پارٹیوں کے صدور کانفرنس میں شرکت کریں گے. چین اور بھارت کے مابین لداخ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، بھارت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت کے 20 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں تا ہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کے 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو درجن سے زائد لاپتہ ہیں ،کچھ کو چینی فوج نے گرفتار کر رکھا ہے جن میں ایک میجر بھی شامل ہے. واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا

Categories
News

رحمان ملک کیخلاف سنتھیا رچی کی درخواست مسترد

سابق وزیر داخلہ و رہنما پیپلز پارٹی رحمان ملک کے خلاف امریکی شہری سنتھیا رچی کی درخواست پولیس نے مسترد کر دی۔ 

پولیس تفتیش نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق سنتھیا رچی کے پاس کسی قسم کا ثبوت نہیں ہے، درخواست ناقابل کارروائی ہے، دھمکیوں کے الزامات کے حوالے سے سنتھیا رچی کسی کا فون نمبر، تاریخ اور نہ دھمکی کا وقت بتا سکیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سنتھیا رچی کے یوسف رضا گیلانی اورسینیٹر رحمان ملک کے خلاف الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، درخواست میں سنتھیا رچی نے آج سے 9 سال پہلے 2011 میں زنا بالجبر کا الزام لگایا ہے

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعے کی بابت اس وقت متعلقہ تھانے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی اور نہ ہی امریکی سفارت خانے کی طرف سے ایسی کوئی اطلاع دی گئی۔

خیال رہے کہ سنتھیا رچی نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پر جنسی زیادتی جب کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر دست درازی کا الزام لگایا ہے۔

پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سنتھیا رچی کے الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے اور پیپلز پارٹی نے امریکی خاتون کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کر لیا ہے۔

رحمان ملک کی جانب سے سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا گیا ہے جب کہ سنتھیا رچی نے یوسف رضا گیلانی کو 12 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا ہے

Categories
News

پنجاب 5 ہزار کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتی شروع

لاہور سمیت 19 اضلاع میں 5 ہزار کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا

تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں 10 ہزار کانسٹیبل و لیڈی کانسٹیبل بھرتی کیے جانے ہیں، اسی حوالے سے لاہور سمیت 19 اضلاع میں 5 ہزار کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا۔ لاہور سمیت 5 بڑے شہروں میں 600 ٹریفک اسسٹنٹس بھی بھرتی کیے جائیں گے۔

اسی طرح صوبہ بھرسے 40 ڈرائیورز بھی بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ کانسٹیبل کی سیٹوں پر بھرتی میں 5 فیصد اقلیتی اور 15 فیصد خواتین کا کوٹہ مختص ہوگا۔ بھرتیوں کیلئے امیدواروں کی عمر 18 سال سے لیکر 22 سال تک مقرر کی گئی ہے۔

امیدوار 12 اکتوبر سے 26 اکتوبر تک درخواست فارم حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک سے دو روز میں بھرتیوں کیلئے اخبار میں اشتہار بھی جاری کر دیا جائے گا۔ کانسٹیبلز اور ٹریفک اسسٹنٹ کیلئے انٹرمیڈیٹ کی سند لازمی ہوگی۔ ڈرائیورز کیلئے میٹرک کی سند اور ڈرائیونگ لائسنس ضروری ہوگا

Categories
News

دنیا بھر میں کورونا پھر شدت اختیار کرنے لگا

دنیا بھر میں مہلک وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ایک بار پھر سے شدت آ گئی ہے، جمعے کو ایک ہی دن میں ایک لاکھ 81 ہزار نئے مریض سامنے آئے اور نیا ریکارڈ بن گیا۔

 عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کر دیا اور کہا ہے کہ دنیا اب ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں ہے۔

برازیل میں ایک ہی دن میں کورونا وائرس کے مزید 55 ہزار مریض سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی  تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ برازیل میں 49 ہزار افراد جان سے جا چکے ہیں۔

 امریکا میں کورونا وائرس کے مزید 33 ہزار مریضوں کے ساتھ متاثرہ مریضوں کی تعداد 22 لاکھ  96 ہزار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب بھارت میں مزید 14 ہزار 700 سے زائد مریض سامنے آ گئے ہیں جب کہ  سعودی عرب میں بھی مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایران میں کورونا وائرس کا مرض ایک بار پھر پھیل رہا ہے، جمعے کو ایران میں مزید 2 ہزار 615 مریض سامنے آ گئے جب کہ مزید 120 افراد انتقال کر گئے، اس طرح ایران میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ 

کورونا وائرس سے متاثر چلی 2 لاکھ 31 ہزار مریضوں کے ساتھ نویں نمبر  پر ہے جب کہ  میکسیکو میں مزید 5 ہزار 23 نئے مریض سامنے آئے اور 647 مریض جان سے چلے گئے جس کے بعد میکسیکو میں کورونا کے باعث جان سے جانے والے افراد کی تعداد 20 ہزار 394 ہو گئی ہے۔ 

امریکا میں 2 کروڑ 73 لاکھ اور روس میں ایک کروڑ 63 لاکھ سے زائد کورونا ٹیسٹ ہو چکے ہیں، جب کہ برطانیہ 74 لاکھ اور بھارت 64 لاکھ سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ کر چکا ہے

Categories
News

جرمنی میں کرونا وائرس کی ایک اور ممکنہ ویکسین تیار

جرمنی کی ایک غیر معروف بایوٹیکنالوجی فرم کیورویک نے کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین تیار کرلی ہے اور وہ جلد انسانوں پر اس کی آزمائش کا آغاز کرے گی۔ بایو این ٹیک کے بعد وہ جرمنی کی دوسری کمپنی ہے جو ویکسین کے تجربات کرے گی۔

پہلے تجربے میں جرمنی اور بیلجئم میں 168 افراد کو شامل کیا جائے گا جن میں 144 کو ویکسین لگائی جائے گی جبکہ 24 کو لاعلم رکھتے ہوئے بے اثر دوا دی جائے گی۔

امکان ہے کہ ستمبر یا اکتوبر تک اولین معنی خیز نتائج حاصل ہوجائیں گی۔ کمپنی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو فرانز ویرنر ہاس نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر مثبت حالات رہے تو آئندہ سال کے وسط تک ویکسین کی منظوری مل جائے گی۔

جرمنی میں ویکسین کی منظوری دینے والے ادارے، دا پال اہرلچ انسٹی ٹیوٹ نے کہا ہے کہ اگر نتائج بہت اچھے ثابت ہوئے تو ویکسین کی منظوری آئندہ سال کے آغاز میں بھی دی جاسکتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلی آزمائش کے مثبت نتائج ملے تو نسبتاً بڑے پیمانے کی دوسرے مرحلے کی آزمائش ستمبر یا اکتوبر میں شروع کی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کی گیارہ ممکنہ ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش جاری ہے۔

جرمن حکومت نے پیر کو بتایا کہ اس نے کیورویک کے 23 فیصد حصص کے عوض اس آزمائش کے لیے 30 کروڑ یورو فراہم کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کی ایک دستاویز کے مطابق کیورویک کے حصص آئندہ ماہ امریکہ میں ابتدائی عوامی فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ کیورویک کا انتظام کمپیوٹر کمپنی سیپ کے شریک بانی اور جرمن ارب پتی ڈائیٹمار ہوپ کے ہاتھ میں ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بدھ کو آن لائن پریس بریفنگ میں اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

جرمنی اور یورپی یونین میں اس کے شراکت دار ملکوں نے گزشتہ ہفتے آکسفرڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا کی بنائی ہوئی تجرباتی ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی دوسری ویکسینز کے لیے بھی رقوم فراہم کریں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جب موثر ویکسین بن جائے تو انھیں جلد دستیاب ہوجائے۔

جرمن شہر ٹیوبنجن میں قائم کیورویک کو بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا تعاون حاصل ہے اور وہ ویکسین بنانے کے لیے آر این اے طریقہ کار استعمال کررہی ہے۔

بایو این ٹیک اور اس کی شراکت دار فائزر کے علاوہ امریکی کمپنی موڈرینا نے بھی اسی طریقے سے ویکسین بنائی ہے۔ ٹرانسلیٹ بایو اور اس کی شراکت دار سنوفی بھی کرونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے آر این اے طریقے پر کام کررہی ہیں

Categories
News

ورلڈ کپ 2011 کا فائنل فکس تھا، سری لنکا نے بھارت کو کپ فروخت کیا تھا

سری لنکا کے سابق وزیرِ کھیل نے میچ فکسنگ کا ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلا گیا 2011 کے ورلڈ کپ کا فائنل میچ فکس تھا۔ سری لنکا نے بھارت کو ورلڈ کپ ‘فروخت’ کیا تھا۔

سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہندآنندہ الوتھ گماگے نے یہ انکشاف جمعرات کو ایک مقامی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ مہندآنندہ 2011 میں سری لنکا کے وزیر کھیل تھے جب لنکن ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت سے میچ ہار گئی تھی۔

مہندآنندہ 2010 سے 2015 تک وزیر کھیل رہے جب کہ اس وقت وہ بجلی اور متبادل توانائی کے وزیر ہیں۔ سن 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے والے وکٹ کیپر ارجنا رانا تنگا کے بعد وہ ورلڈ کپ 2011 کو فکس قرار دینے والی دوسری اہم شخصیت ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق سری لنکا کے سابق وزیرِ کھیل کے اس بیان سے کرکٹ حلقوں میں میچ فکسنگ تنازعات پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ سابق وزیر نے انکشاف کیا کہ انہیں میچ فکس ہونے کا تب بھی یقین تھا جب وہ وزیر کھیل تھے۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ اس وقت یہ انکشاف نہیں کرنا چاہتے تھے مگر اب انہیں لگتا ہے کہ یہ سب بتانے کا یہی صحیح وقت ہے۔

انہوں نے کہا وہ تمام کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ میں ملوث نہیں سمجھتے لیکن یہ سچ ہے کہ کچھ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث تھے۔

ایک سوال کے جواب میں مہندآنندہ کا کہنا تھا کہ 2011 میں ورلڈ کپ کا فائنل ہم جیت رہے تھے لیکن اچانک ایک ڈرامائی موڑ آیا اور شاید ہم جان بوجھ کر ہم یہ میچ ہار گئے۔

یاد رہے کہ 2011 کے عالمی کپ کا فائنل ممبئی کے ‘ون کھیڑے اسٹیڈیم’ میں کھیلا گیا تھا جس میں سری لنکا، بھارت سے 6 وکٹوں سے مات کھا گیا تھا

اس سے قبل رانا تنگا، جو اس میچ ایک مبصر کی حیثیت سے اسٹیڈیم میں موجود تھے، نے بھی سری لنکا کی بھارت کے ہاتھوں شکست کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

رانا تنگا نے جولائی 2017 میں کہا تھا کہ انہیں سری لنکا کی شکست سے بہت تکلیف پہنچی تھی۔ ان کے بقول “مجھے میچ فکسنگ کا شک تھا اور ہے۔ لہٰذا اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ 2011 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کے ساتھ کیا ہوا تھا۔”

رانا تنگا نے مزید کہا تھا کہ میں سب باتیں سب کو بتا بھی نہیں سکتا لیکن کسی نہ کسی دن انہیں ظاہر ضرور کروں گا۔

ورلڈ کپ 2011 کے فائنل میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصآن پر 274 رنز بنائے تھے۔ بھارت اس میچ میں ابتدائی طور پر بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا۔ حتیٰ کہ اسٹار بیٹس مین سچن ٹنڈولکر بھی دوسرے کھلاڑیوں کی طرح بڑا اسکور نہیں کر سکے تھے اور صرف 18 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے۔

رانا تنگا کے بقول “اس کے بعد بھارت نے کھیل کو ڈرامائی انداز میں موڑ دیا اور سری لنکا ناقص فیلڈنگ اور کمزور باؤلنگ کی آڑ میں میچ ہار گیا تھا۔”

دوسری جانب بھارتی کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

‘اے ایف پی’ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سری لنکا میں کرکٹ باقاعدگی سے کرپشن اور میچ فکسنگ سمیت دیگر تنازعات میں گھری رہی ہے۔ کرکٹ میں بدعنوانی اور میچ فکسنگ جیسے معاملات کو روکنے کی غرض سے بورڈ نے سخت قوائد کا اعلان کرتے ہوئے جرمانے کی سزائیں بھی متعارف کرائی تھیں۔

رواں ماہ کے شروع میں سری لنکن کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل مبینہ بدعنوانی پر تین نامعلوم سابقہ کھلاڑیوں سے تفتیش کر رہی ہے۔

سری لنکا کے ایک اور سابق وزیر کھیل ہیرن فرنینڈو نے بھی کہا ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ شروع سے اب تک ناجائز سیاسی یا تجارتی فائدے اٹھانے کے سبب بری طرح متاثر ہے۔ ان کے بقول آئی سی سی، سری لنکا کو دنیا کی بدعنوان ترین ٹیموں میں شمار کرتا ہے۔

سری لنکا کے سابق فاسٹ بولر دلہارا کو بدعنوانی کے الزام میں 2018 میں معطل کر دیا گیا تھا۔

سابق کپتان اور سابق چیف سلیکٹر سنتھ جے سوریا اور سابق فاسٹ بولر نووان زویسا کے بعد دلہارا آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی کوڈ کے تحت سزا پانے والے تیسرے سری لنکن کھلاڑی تھے۔

اس سے قبل جے سوریا میچ فکسنگ تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر مورد الزام ٹھیرائے جا چکے ہیں۔ آئی سی سی نے ان پر دو سال تک کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی جب کہ زویسا کو میچ فکسنگ کے الزام میں معطل کیا گیا تھا

Categories
News

نیپال کے نئے نقشے کی منظوری بھارت کے زیرِ انتظام تین علاقے بھی شامل

نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے بھی متفقہ طور پر ملک کے نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تین ایسے متنازع علاقے نقشے میں شامل کیے گئے ہیں جو بھارت کے زیرِ انتظام ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق نیپال کے ایوان بالا یا قومی اسمبلی میں جمعرات کو پرانے نقشے کو نئے نقشے سے بدلنے کے لیے آئینی ترمیم پیش کی گئی۔

آئینی ترمیم کے ذریعے بھارت کی سرحد سے متصل اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تین علاقوں لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادُھرا کو نئے نقشے میں شامل کیا گیا ہے۔

نیپال نے یہ اقدام ایسے موقع پر کیا ہے جب بھارت کو مشرقی لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ فوجی کشیدگی کا سامنا ہے اور ایک جھڑپ میں اس کے 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیپال کے ایوانِ بالا کے چیئرمین گنیش پرساد کا کہنا ہے کہ نئے نقشے کی منظوری کے لیے کی جانے والی آئینی ترمیم کے حق میں 57 ارکان نے ووٹ دیا ہے۔

نیپال کے ایوانِ زیریں نے گزشتہ ہفتے نئے نقشے کی منظوری دی تھی۔ ایوانِ زیریں کے ارکان کی تعداد 275 ہے جن میں سے 258 نے اجلاس میں شرکت کی تھی اور سب نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے نئے نقشے کی آئینی ترمیمی کی منظوری کے بعد اس پر صدر دستخط کریں گے جس کے بعد نیپال کے نئے نقشے میں تین متنازع علاقے شامل ہوں گے۔

گزشتہ ماہ جب نیپال کی حکمران جماعت نے اس نقشے کی منظوری دی تھی تو اس پر بھارت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ نئی دہلی کا کہنا تھا کہ یہ قدم یک طرفہ ہے اور حقائق کے خلاف ہے

نیپال کے وزیرِ قانون شیوا مایا نے ایوان کو بتایا کہ مذکورہ متنازع علاقوں کو اپنی حدود میں شامل کرنے سے متعلق ان کے پاس مصدقہ شواہد اور ثبوت موجود ہیں اور بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ شری واستو نے کہا تھا کہ نیپال کی یہ مصنوعی توسیع تاریخی حقائق یا ثبوتوں پر مبنی نہیں ہے اور یہ سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مجوزہ مذاکرات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اس نے کالا پانی کے علاقے کو اپنا علاقہ دکھایا تھا۔ اس پر نیپال نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور کالا پانی کو اپنا علاقہ بتایا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت کشیدگی شدت اختیار کر گئی تھی جب بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو لیپو لیکھ درّے کو ریاست اُتر کھنڈ سے ملانے والی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ یہ علاقہ چین کے زیر اتنظام تبت کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 80 کلو میٹر طویل اس سڑک سے تبت میں واقع ماناساروار جھیل کا راستہ مختصر ہو جائے گا۔ یہ جھیل ہندوؤں کے مقدس مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔

نیپال کا دعویٰ ہے کہ بھارت جو سڑک بنانے جا رہا ہے وہ 19 کلو میٹر تک نیپال کے علاقے سے گزرے گی۔

نیپال کا کہنا ہے کہ اس کا 1816 میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت اس کی مغربی سرحد میں وہ تمام علاقے شامل ہیں جو بہنے والے دریا کے ساتھ واقع ہیں اور یہی دریا اس کے سرحد کا تعین بھی کرتا ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی حکومت نیپال کے مؤقف کی تردید کرتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان متنازع علاقے کا رقبہ 372 اسکوائر کلو میٹر ہے۔ تاہم یہ علاقے اسٹریٹجک اعتبار سے اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ یہ نیپال، بھارت اور چین کے تبت کے درمیان واقع ہے۔

چین سے 1962 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے بھارت اس علاقے میں موجود ہے